گاندھی نگر،6؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) گجرات کے سخت اور مبینہ طور سے متنازعہ انسداد دہشت گردی اور منظم جرائم بل کو بالآخر صدر کی منظوری مل گئی اور اسے قانون بنانے کا راستہ صاف ہو گیا ہے- اس سے پہلے3سابق صدور نے بل کے کچھ التزاموں پر اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے اسے واپس لوٹا دیا تھا-گجرات کے وزیرداخلہ پردیپ جڈیجہ نے منگل کے روز نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس بل کو پہلی مرتبہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی میعاد کار میں گجرات اسمبلی نے2003میں پاس کیا تھا-اسے آج صدر رام ناتھ کووند کی منظوری کے بعد گجرات مہاراشٹر کے مکوکا قانون کے بعد انسداد دہشت گرد ی جیسے سخت قانون والی دوسری ریاست بن گئی ہے- انہوں نے کہا کہ یہ قانون 1600کلومیٹر لمبی بحری سرحد والے اس صوبہ کی سلامتی کے لئے بہت ضروری ہے-انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت اسے منظوری ملنے کا خیرمقدم کرتی ہے- یہ قانون دہشت گردی اور منظم جرائم کے خلاف پولیس اور جانچ ایجنسی کو زیادہ اختیار دے گا اور گواہوں کی بھی بہتر سلامتی یقینی بنائی جاسکے گی- اس کے تحت پولیس کے سامنے قبول کرنے کو بھی ثبوت کے طور پر قانونی طور پر تسلیم کیا جائے گا-انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات اور منظم جرائم کے معاملے میں اس قانون کے تحت ہی کارروائی ہوگی-قابل ذکر ہے کہ اس بل کو اس وقت کے صدر اے پی جے عبدالکلام نے2004، پرتیبھا پاٹل نے2008اور 2009میں اور پرنب مکھرجی نے2016میں لوٹا دیا تھا-